18 ستمبر 2012 - 19:30

ایسےعالم میں جب امریکہ میں پیغمبراسلام (ص) کی شان میں توہین آمیزفیلم بنائےجانےکےخلاف پوری دنیاکےمسلمان مظاہرہ کررہےہیں ، فرانس کےشارلوابدو جریدےنے پیغمبراسلام (ص) کی شان میں توہین آمیزکارٹون چھاپےہيں۔

ابنا: فرانس کےمسلمانوں کی کونسل نے ایک بیان جاری کرکےاس جریدےکی اس حرکت پرتشویش ظاہرکی ہے۔
اس بیان میں آیاہےکہ فرانس کےمسلمانوں کی کونسل اس غیرذمہ دارانہ اقدام پرتشویش ظاہرکرتی ہے جوموجودہ حساس حالات میں کشیدگی میں اضافے اورغیرمتوقع ردعمل پرمنتج ہوسکتا ہے۔ اس کونسل نےمسلمانوں سےاپیل کی ہےکہ وہ اپنی ناراضگی قانون کےدائرےمیں ظاہرکریں۔
فرانس کےوزیراعظم اوروزیرخارجہ ژان ماک ایرو اورلوران فابیوس نے ان کارٹونوں کی اشاعت پرردعمل ظاہرکرتےہوئےاعلان کیاہے کہ آزادی بیان جمہوریت کابنیادی قانون ہے لیکن یہ آزادی، قانون اورکورٹ کےدائرےمیں ہونی چاہئے۔فرانس کےوزیرخارجہ لوران فابیوس نے جواس وقت مصرکےدورے پرہیں کہاہے کہ وہ بالخصوص موجودہ حالات میں  ہرطرح کےاشتعال انگیزاقدام کےخلاف ہيں۔
فرانس کی پولیس نے پیغمبراسلام (ص) کی شان کےبرخلاف فیلم پرمسلمانوں کےاحتجاجی مظاہروں کوغیرقانونی قراردیا ہے اور ایک سوپچاس افراد کوگرفتارکرلیاہے۔قابل توجہ نکتہ یہ ہےکہ اس کےکچہ ہی دنوں بعد فرانس کےآرتھوڈکس عیسائیوں نےآذربائیجان کےصدرصفرالھام علی اف کےدورہ فرانس کےخلاف پیرس کی سڑکوں پراحتجاجی مظاہرہ کیاجنھیں پولیس نےمکمل سیکورٹی فراہم کی۔لیکن مسلمانوں کوپیغمبراسلام (ص) کی توہین کےخلاف مظاہرےکاحق نہيں ہے ۔یہ آزادی بیان کےاحترام میں فرانس کےحکام کےدہرےرویےکاایک اورثبوت ہے۔
حکومت فرانس اوراس ملک کےاسلام دشمن، مغرب میں اسلام دشمنی اوراسلام کےخلاف جنگ میں پیش پیش رہتےہيں۔ اس نےلائیک قوانین کےتحت مسلمان طالبات پرحجاب پرپابندی جیسے اسلامی قوانین سے تضاد کاحوالہ دیتےہوئے باحجاب طالبات کےاسکولوں میں داخلےکی ممنوعیت کاقانون منظورکیا۔فرانس میں اسلام کےخلاف منظورہونےوالاسب سےپہلاقانون جوسرکوزی کےزمانے میں بنایاگیاوہ چہرہ چھپاکرخواتین کےپبلک مقامات پرآنےپرپابندی کاقانون تھا۔انتخابات کےزمانےمیں دائيں بازو، اوردائيں بازوکی انتہاپسندجماعتیں، مسلمانوں کےخلاف موقف اختیارکرتی ہيں اوران کےخلاف انتخابی نعرےلگاتی ہیں۔ یہ اقدام عملی طور پر اسلامی مقدسات کی توہین کی زمین ہموارکرتاہے۔مغربی حکومتیں بالخصوص حکومت فرانس، مختلف طریقوں سےاسلام اوراسلامی مقدسات کی توہین میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ اسلام دشمنی اوراسلام ستیزی کاعمل فرانس سےہی دوسرےمغربی ملکوں تک پھیلاہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جب بھی مغربی حکومتوں بالخصوص فرانس پراسلام دشمن اقدامات پر تنقیدکی جاتی ہےتو وہ آزادی بیان کےتناظرمیں اس کی توجیہ کرتا ہے۔
لیکن مسلمانوں کواسلامی مقدسات کی توہین کےخلاف مظاہروں کاحق نہيں ہے۔مغربی ممالک میں ایک غیرتحریری قانون پرعمل ہوتاہے اوروہ یہ ہے کہ آزادی بیان میں ایک چیزمستثنی ہے اوروہ یہ ہے کہ آزادی کےاس حق میں مسلمان شامل نہيں ہیں۔
.....
/169